چین پر بے بنیاد الزامات کے بعد ٹرمپ عالمی ادارہ صحت پر چڑھ دوڑے

واش نگٹن- چین پر بے بنیاد الزامات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمیادارہ صحت ڈبلیوایچ ک کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا ذمہ دار قراردیدیا ہے جبکہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا جلدبازی میں ووہان سے امریکی شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ امریکا میں وائرس کے پھیلاﺅ کا سبب بنا .

واضح رہے کہ ووہان میں وبا پھیلنے کے بعد چینی حکومت نے ان تمام ملکوں سے اپنے شہری ووہان سے نہ نکالنے کی درخواست کی تھی جو وہاں پھنسے ہوئے تھے تاہم امریکا نے خصوصی طیاروں کے ذریعے نہ صرف ووہان بلکہ چین کے مختلف شہروں سے امریکی شہریوں کو نکال لیا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابتدائی فلائٹس میں چین سے جانے والے کسی امریکی شہری کی میڈیکل جانچ نہیں کی گئی .

وبا کے پھیلنے سے پہلے امریکی صدر امریکا محکمہ صحت‘سی ڈی سی‘جان ہوپکنز اور دیگر اداروں کے ماہرین کے مشوروں کو نظر اندازکرکے اسے عام نزلہ زکام قراردیتے رہے اور ان کی حکومت نے بروقت اقدامات نہیں کیئے جس کی وجہ سے امریکا آج وائرس سے متاثرہ دوسرا بڑا ملک ہے. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری شدید دباﺅ اور مشکلات کا شکار ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا پر عالمی ادارہ صحت نے تاخیر سے ایکشن لیا.

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو امریکا سے بہت سے فنڈز ملتے ہیں لیکن آئندہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو فنڈز دینے کے معاملے پر سوچیں گے انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او چین کے زیادہ قریب ہے جس نے چین کے لیے بارڈر کھلے رکھنے کا غلط مشورہ دیا خیال رہے کہ امریکا میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران مختلف ریاستوں میں امریکا میں 24 گھنٹوں کے دوران 2000 افراد ہلاک ہو گئے اب تک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے.

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق امریکا میں ہلاکتوں کی کل تعداد 11 ہزار 781 ہوگئی ہے امریکا میں 3 لاکھ 78 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں New York میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث 731 ہلاکتیں ہوئی ہیں، جو کہ اب تک ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے اس وقت ریاست نیو یارک میں تقریباً 5500 اموات ہو چکی ہیں گورنر اینڈریو کومو نے شہریوں سے سماجی دوری برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کے اندر رہنے کا کہا گیا ہے.

دنیا میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 14 لاکھ سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 82 ہزار سے بڑھ گئی ہے. ادھر سنگاپور نے کورونا وائرس کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر رواں ہفتے ملک میں ہر طرح کی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے تحت ہر طرح کی نجی دوستوں کی محفلوں یا ایسے خاندان جو ایک ساتھ نہیں رہتے ان کی بھی سماجی تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کی گئی ہے.

سنگاپور کے نشریاتی ادارے کے مطابق یہ پابندیاں اس بل کا حصہ ہیں جو گذشتہ روز پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا ہے اور جس کے تحت وزیر صحت کو لوگوں کی نقل حمل کو محدود کرنے اور عوام کی نجی محفلوں کے انعقاد پر پابندی لگانے سمیت مختلف اختیارات حاصل ہوئے ہیں. سنگاپور نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو کم کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھائے ہیں جن میں ملک کی تمام غیر ضروری صنعتوں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ دفاتر اور سکولوں کو بھی بند کیا گیا ہے یہ پابندیاں 4 مئی تک نافذ کی گئی ہیں سنگاپور میں اب تک کورونا کے 1481 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *